وزیراعظم کی 2سالہ حکومت کی کارکردگی کیسی رہی اور عمران خان کو کامیاب ہونے کیلئے کرپشن سے پہلے کس سے لڑنا ہوگا؟ آفتاب اقبال بجلی بن کر ٹوٹ پڑے، تمام بلندو بانگ دعوؤں کو مٹی میں ملا دیا - So Fast TV News Network (SFNN)

Wednesday, May 20, 2020

وزیراعظم کی 2سالہ حکومت کی کارکردگی کیسی رہی اور عمران خان کو کامیاب ہونے کیلئے کرپشن سے پہلے کس سے لڑنا ہوگا؟ آفتاب اقبال بجلی بن کر ٹوٹ پڑے، تمام بلندو بانگ دعوؤں کو مٹی میں ملا دیا



لاہور (ویب ڈیسک) جب 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی تو تب عمران خان کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اگر آپ کا وزیراعظم کسی قسم کی مانیٹری کرپشن سے پاک ہے تو آپ کا سیاسی نظام بہترین طریقے سے فنکشن کر سکتا ہے۔ لیکن آج ان کی

حکومت کو دو سال گزر چکے ہیں کچھ نیا دیکھنے کو نہیں ملا؟ نامور صحافی اور میزبان آفتاب اقبال کا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر عمران خان ایک ڈکٹیٹر ہوتا جس میں اسے بار بار کسی سے پوچھنا نہ پڑتا، بار بار پارلیمنٹ میں نہ جانا پڑتا اور نہ ہی باربار کابینہ کے اجلاس بلانے پڑتے تو تو جو عمران خان نے دعوے کیے تھے وہ انقلاب آفرین تبدیلیاں آپ پہلے ابتدائی چھ ماہ دیکھ لیتے۔ آفتاب اقبال کا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت پوری طرح سے جمہوریت کے چال میں پھنس کر رہ گیا ہے اور جمہوریت بھی وہ جو انتہائی مشکوک ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ وہ جمہوریت نہیں ہے جو دیگر دنیا میں دیکھی جاتی ہے۔کیونکہ ہمارے ملک میں موجودہ جمہوریت ایک بے ہودہ مذاق سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔اسی طرح ارسطو نے بھی سیاست کی سب سے کمزور ترین شکل جمہوریت کو قرار دیا ہے۔لہذا اس کے باوجود عمران خان اس وقت اس جھنجٹ میں بری طرح سے پھنس چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ عمران خان نے الیکشن سے پہلے اتنے بڑے بڑے دعوے کیوں کیے؟ عمران خان نے ہی نہیں بلکہ اس کے آس پاس بیٹھے لوگوں نے بھی الیکشن سے قبل بڑے بڑے دعوے کیے تھے، جنہیں پتا ہی نہیں تھا کہ سیاست ہوتی کیا ہے؟ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ حکومتی معاملات کیسے چلتے ہیں؟ حکومت کی چڑیا کس کو کہتے ہیں؟ اور یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے کبھی اقتدار کے ساتھ جڑے نہیں تھے،

یہی وجہ ہے کہ وہ الیکشنز میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔انہوں نے کہا کہ متعدد بار مجھے عمران خان کے حق میں بولنے پر عمران خان کے مخالفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ میں عمران خان کا بہت بڑا سپورٹر ہوں؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے سپورٹر ہونے کی بات نہیں ہے میں ان کی شخصیت کا گرویدہ ہو کیونکہ عمران خان پاکستان کی تاریخ میں سامنے آنے والے ایسے وزیراعظم ہیں جو کہ کرپٹ نہیں ہیں بلکہ کرپشن کے ناسور کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی زندگی میں پاکستان پر ایسے ایسے کرپٹ وزیراعظم مسلط ہوئے دیکھے ہیں کہ اب ہمیں عمران خان اک فرشتہ لگتا ہے، جو پاکستان کی بقا کے لئے دن رات کوشاں ہے، اور یہ کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح سے پاکستان کو وہ مقام دلوایا جائے جو اس کا حق بنتا ہے، حتیٰ کہ ان کی اپنی ٹیم میں بہت سے قابل لوگ موجود ہیں جو پاکستان کی فلاح کے لئے کچھ نہ کچھ کر گزرنا جاتے ہیں، لیکن اسی فرسودہ اور پرانے نظام کی وجہ سے عمران خان اور ان کی ٹیم کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مثال ایسے ہے کہ پرانی دیواروں پر آپ نے نئی چھت ڈال دی ہو جس کا کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اپنی گفتگو میں آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ ہمارے جمہوری نظام کی اصل ساکھ کو متاثر کرنے میں ہمارے ملک میں موجود جاگیردارانہ نظام کا ہاتھ ہے،آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں کرپشن سے لڑنے سے پہلے اس جاگیردارانہ نظام سے لڑنا ہوگا تاکہ پاکستان کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

Sharing is caring!

No comments:

Post a Comment

.pop