So Fast TV News Network (SFNN)

Breaking

Wednesday, November 25, 2020

بریکنگ نیوز:پاکستان کی لڑ کھڑاتی معیشت بالآخر سنبھل گئی ۔۔۔!!! وزیرا عظم عران خان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ، بڑی خوشخبری سنا دی گئی

November 25, 2020 0
بریکنگ نیوز:پاکستان کی لڑ کھڑاتی معیشت بالآخر سنبھل گئی ۔۔۔!!! وزیرا عظم عران خان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ، بڑی خوشخبری سنا دی گئی



لاہور(ویب ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانیوں کو خوشخبری سنا تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں بہتری آرہی ہے جو کہ پاکستانی معیشت کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے ، سی پیک کے باعث پاکستان کو ہنرمند افراد کی ضرورت ہے جس سے بے روزگاری تو ختم ہو گئی ساتھ ساتھ

پاکستان کے زر مبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہو گا ، انہوں نے دورہ افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان امن ڈائیلاگ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، افغانستان میں امن سے پاکستان کے قبائلی علاقوں کو فائدہ ہوگا،لاک ڈاؤن کے ساتھ یومیہ اجرت والوں کو تحفظ فراہم کیا،افغانستان میں امن سے خطے کو فائدہ ہوگا، 17سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہوگیا، ہم نے منی لانڈرنگ کیخلاف کارروائیاں کیں،ہم نے غیرضروری اجتماعات پرپابندی لگائی ،حکومتی اقدامات کے ذریعے معیشت کو کورونا اثرات سے بچایا، ترقی پذیرممالک کیلئے منی لانڈرنگ بہت بڑا مسئلہ ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کاعالمی اقتصادی فورم’’پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ‘‘سےخطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وقت گزرنےکےساتھ ساتھ ملکی معیشت مستحکم ہورہی ہے،سی پیک ملکوں کے در میان روابط کا منصوبہ ہے،پاکستان خوش قسمت ہےکاروباری برادری کوہم پراعتمادہے،استحکام حاصل کرنے کے بعد ہم اب مثبت سمت میں بڑھ رہےہیں،سی پیک کے باعث پاکستان کو ہنر مند افراد کی ضرورت ہے،پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری آرہی ہے،درآمدات اور برآمدات میں 40ارب ڈالر کا فرق تھا ،ہم نے منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی کی،سترہ برس بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پلس میں آگیا،احساس کیش پروگرام کے ذریعے غریب گھرانوں کی مدد کی گئی،فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے کام کررہی ہے،فیصل آباد میں لیبرکی کمی کا بھی سامنا ہے، درآمدات اوربرآمدات میں 40 ارب ڈالرکا فرق تھا، 17سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہوگیاہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نےلاک ڈاؤن کےبرعکس عوامی اجتماعات پر پابندی لگائی ہے،ہم ایسے اقدمات کر رہے ہیں جس سے معیشت متاثر نہ ہو،پاکستان میں کورونا کیس بڑھنے پر ہمیں تشویش ہے ،پاکستان کاروبار اور فیکٹریوں میں لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا،کورونا متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کی اورسمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کرایا،ہاٹ سپاٹس کا پتاچلا کر سمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مددسےامریکااورطالبان مذاکرات کی میزپرآئے ،اُمید ہے افغانستان میں امن آئے گا ،افغانستان میں امن سے اطراف کے علاقوں کو فائدہ ہوگا صدرٹرمپ نے افغانستان میں اچھے اقدامات کیے،اُمیدہےجوبائیڈن افغانستان میں اچھےاقدامات سےپیچھےنہیں ہٹیں گے۔

پاک چین دوستی کاشاہکار گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال، پہلا کارگو جہاز لنگرانداز

November 25, 2020 0
پاک چین دوستی کاشاہکار گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال، پہلا کارگو جہاز لنگرانداز



 

گوادر (آئی این پی) پاکستان اورچین کی مشترکہ کوششوں سے گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال ہوگئی، جس کے بعد پہلا کارگو جہاز بندرگاہ پر لنگرانداز ہوا۔چینی سفیرنونگ رونگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ گوادر پورٹ مکمل طورپرفعال ہوگیا، گوادرپورٹ پاکستان اور

چین کی مشترکہ کوششوں سے مکمل فعال ہوا، ایل پی جی، ڈی اے پی کھاد کے کنٹینرز کی ہینڈلنگ کی جا رہی ہے۔گوادرپورٹ فعال ہونے کے بعدپہلاکارگوجہازبندرگاہ پرلنگرانداز ہوا، چین سے آئے 203میٹرک ٹن وزنی کارگو جہازمیں سی فوڈ لایا گیا ہے۔


بابراعظم کے گھریلو حالات کیسے تھے اور پہلی کٹ خریدنے کیلئے پیسے کہاں سے آئے؟ بابراعظم نے ذاتی زندگی سے متعلق ایسے انکشافات کر دئیے کہ ہر نوجوان کا حوصلہ جوان ہو جائے

November 25, 2020 0
بابراعظم کے گھریلو حالات کیسے تھے اور پہلی کٹ خریدنے کیلئے پیسے کہاں سے آئے؟ بابراعظم نے ذاتی زندگی سے متعلق ایسے انکشافات کر دئیے کہ ہر نوجوان کا حوصلہ جوان ہو جائے

 

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کرکٹ میں اپنی کامیابیوں کا راز بتاتے ہوئے کہا ہے کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنی فیملی کی سپورٹ اور حمایت کی وجہ سے ہوں، پہلی کٹ خریدنے کیلئے والدہ نے تین سے چار ہزار روپے دئیے اور جب پہلی مرتبہ نئی کٹ دیکھی تو اسی کی خوشی بیان نہیں کر سکتا۔

تفصیلات کے مطابق بابراعظم نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں آج جس مقام پر بھی ہوں اپنی فیملی کی وجہ سے ہوں، شروع میں میرے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے، میں نے کھیلنے کیلئے کٹ لینا تھی اور میری والدہ نے کچھ پیسے جوڑ رکھے تھے جو انہوں نے مجھے دیدئیے تاکہ میں کٹ لے سکوں، مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ 3سے 4 ہزار روپے تھے جن میں سے شاید 2 ہزار سے 2500کا تو صرف بیٹ آ گیا تھا، جب میں نے پہلی مرتبہ نئی کٹ دیکھی اور اس کٹ کے ساتھ کھیلا تو اس کی خوشی بیان نہیں کر سکتا، شروع کے دو تین سال میں اسی کٹ کے ساتھ کھیلتا رہا۔ان کا کہنا تھا میں نے اس کٹ کو بہت سنبھال کر رکھا تھا لیکن اب مجھے یہ کٹ مل نہیں رہی، میں نے بہت تلاش بھی کی، کیرئیر کے شروعات میں میری یہ ایسی یادیں ہیں جنہیں میں کبھی نہیں بھلا سکتا، بابراعظم کا کہنا ہے کہ میں فیملی سپورٹ اور بیک کا تو کبھی شکریہ ادا نہیں کر سکتا، میرے والد اور میرے بھائیوں نے مجھے بہت بیک کیا، خاص طور پر میں یہاں اپنے والد کا ذکر کروں گا، وہ مجھے ہر میچ پر لے جاتے تھے اور جب تک میچ ختم نہیں ہو جاتا تھا وہ وہاں موجود ہوتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ میں جب پاکستان کی انڈر 19 اور پاکستان ٹیم میں بھی آ گیا تو میں جہاں بھی ٹیم کے ساتھ جاتا وہ وہاں موجود ہوتے تھے، وہ مجھے ہر طرح سے گائیڈ کرتے تھے، انہوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی، اب موجودہ حالات میں میرے والد گھر ہی موجود ہوتے ہیں لیکن انہوں نے میری بہت رہنمائی کی ہے، مجھے گھر سے کسی قسم کی کوئی ٹینشن نہیں تھی، میں نے ہر قسم کی فکر سے آزاد ہو کر صرف کرکٹ کھیلی اور اسی پر توجہ دی کیونکہ مجھے والد اور بھائیوں کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔

Friday, May 22, 2020

اب راج کرے گی خلقت خدا۔۔۔!!!خلیجی ممالک سے نوکریوں سے نکالے گئے پاکستانیوں کیلئے خوشخبری، حکومت نے بیروزگار افراد کے لیے شاندار قدم اٹھا لیا

May 22, 2020 0
اب راج کرے گی خلقت خدا۔۔۔!!!خلیجی ممالک سے نوکریوں سے نکالے گئے پاکستانیوں کیلئے خوشخبری، حکومت نے بیروزگار افراد کے لیے شاندار قدم اٹھا لیا



لاہور(ویب ڈیسک) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور احساس کیش پروگرام کی سربراہ ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک سے نوکریاں ختم ہونے کے باعث وطن لوٹنے والوں کو احساس پروگرام میں شامل کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ ایمرجنسی کیش ٹرانسفر میں اور بھی بہت لوگ آ سکتے ہیں۔ہمیں بہت ساری درخواستیں مختلف وزارتوں سے موصول ہو رہی ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کو اس فہرست میں شامل کیا جائے،ہم ہر فہرست کو اپنے اصولوں کے مطابق پرکھ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ پروگرام تین حصوں میں بٹا ہوا ہے جو عید کے بعد ختم ہو جائے گا لیکن نچلے طبقے کے افراد کی مالی مدد کا عمل چلتا رہے گا،اس کے بعد اگر حکومت کو ضرورت محسوس ہوتی ہے تو مزید لوگوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ حال ہی میں اجرا ء ہونے والے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کو 144 ارب روپے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے،اس پروگرام کے ذریعے ایسے لوگوں کی مالی معاونت کی جائے گی جن کی نوکریاں کورونا وائرس کی وبا کے باعث متاثر ہوئی ہوں۔ثانیہ نشتر نے بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچا جائے گا جن میں فی خاندان 12 ہزار روپے مختلف درجہ بندیوں کے تحت بانٹے جائیں گے،ان میں دیہاڑی پر کام کرنے والے اور مزدور سر فہرست ہیں۔ثانیہ نشتر نے کہا کہ پاکستان لیبر فورس سروے کے مطابق دو کروڑ 40 لاکھ ایسے لوگ ہیں جو یا تو دیہاڑی پر یا پر پیِس ریٹ کماتے ہیں، ان دو کروڑ 40 لاکھ افراد کا روزگار کورونا وائرس کی وجہ سے بہت بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایگ گھر میں تقریباً چھ اعشاریہ پانچ افراد ہوتے ہیں تو اس طرح اگر اندازہ لگایا جائے تو یہ تعداد ملک کی آبادی کا دو تہائی بنتی ہے یعنی 16 کروڑ سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جن کا گزر بسر دیہاڑی اور پر پیِس ریٹ پر ہوتا ہے۔ان درجہ بندیوں میں کفالت پروگرام کے تحت 45 لاکھ موجودہ صارفین کو ماہانہ دو ہزار روپے کے ساتھ ساتھ اگلے چار ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی اضافی رقم دی جائے گی،دوسرے درجے میں شامل ہونے والے افراد کو 12 ہزار روپے کی ماہانہ رقم یک مشت ادا کی جائے گی،اس کے علاوہ ایس ایم ایس مہم شامل ہے جس کے ذریعے لوگ 8171 پر ایس ایم ایس بھیج کر پروگرام میں شامل ہونے کی اپنی اہلیت جان سکیں گے،جو لوگ اہل ہوں گے انہیںایس ایم ایس کے ذریعے رقم وصول کرنے کی اطلاع دی جائے گی،اندازا ً40 لاکھ افراد قومی و سماجی اعداد و شمار کے ذریعے اور 35 لاکھ افراد ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے شامل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے کوائف کی تصدیق قومی سماجی و معاشی سروے کے ذریعے نہیں ہو سکے گی ان کو ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کا کہا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ سے تصدیق شدہ افراد کو ہی شامل کیا جائے گا جبکہ ان تمام افراد کی تصدیق نادرہ کی مدد سے کی جائے گی۔ثانیہ نشتر نے کہا کہ اس کے لیے ہم نے نادرا اور بینکوں سے تعاون مانگا ہے جس کے ذریعے لوگ بایومیٹرک نظام کے تحت اپنی رقوم وصول کر سکیں گے۔

Sharing is caring!

نیپال بھارت سرحدی تنازع ۔۔!! امریکہ اور چین بھی آمنے سامنے آگئے ،دونوں ممالک کس کس کی حمایت میں کودپڑے؟صورتحال سنگین ہوگئی

May 22, 2020 0
نیپال بھارت سرحدی تنازع ۔۔!! امریکہ اور چین بھی آمنے سامنے آگئے ،دونوں ممالک کس کس کی حمایت میں کودپڑے؟صورتحال سنگین ہوگئی

بیجنگ( نیوز ڈیسک) بھارت اور نیپال کے سرحدی تنازع کے معاملے پر ناصرف نیپال اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ چین اور انڈیا کی افواج بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی ہیں۔اس معاملے میں چین نیپال کی حمایت میں جبکہ امریکہ بھارت کے حق میں سامنے آیا ہے۔نیپال اور

بھارت میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد لداخ اور شمالی سکم کے مختلف متنازع علاقوں پر چین اور بھارت میں کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔ دونوں ممالک نے متنازعہ سرحدی علاقوں میں مزید فوج تعینات کر دی ہے۔وادی گلوان میں چینی فوج کے قابل ذکر تعداد میں خیمے دیکھے جاسکتے ہیں جس کے باعث بھارت نے اس علاقے کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔۔امریکہ نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی پر بھی چین کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔جنوبی اور وسطی ایشیا کے لئے امریکہ کی اعلی سفارت کار ایلس ویلز کا کہنا ہے کہ سرحد پر حالیہ کشیدگی سے چین کی جارحیت ظاہر ہوتی ہے،چین کا رویہ دیگر اقوام کو یکجا ہونے پر مجبور کر رہا ہے تاکہ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اکنامک ورلڈ آرڈر کو دوبارہ نافذ کریں۔واضح رہے کہ نیپال نے بھارت سے سرحدی تنازع کے بعد نیا نقشہ جاری کیا تھا۔ حکومتی ترجمان یوراج خطی واڈا نے کہا کہ نیا سیاسی نقشہ ہر سرکاری ادارے اور تمام نصابی کتب میں بھی استعمال ہوگا۔نیپال کی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب بھارت کی وزارت دفاع نے حال ہی میں لیپولیکھ سے گزرنے والی چین کی سرحد کے لیے ایک لنک روڈ کا افتتاح کیا۔اس لنک روڈ کے افتتاح کے بعد نیپال کی حکومت کی جانب سے ایک پریس نوٹ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ 1816 کے سگؤلی معاہدے کے مطابق دریائے مہاکالی کا مشرقی علاقہ نیپال کا ہے جب کہ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے روڈ اپنے ہی علاقے میں بنایا ہے۔ لیپولیکھ کا علاقہ چین، نیپال اور بھارت کی سرحدوں سے متصل ہے، نیپال بھارت کے اس اقدام کے بعد ناراض ہیجب کہ لیپولیکھ میں قبضے کے معاملے پر نیپال میں بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

Sharing is caring!

 

سوشل میڈیا پر نئی تاریخ رقم ۔۔۔۔۔ارطغرل نے دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے یوٹیوب چینلز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

May 22, 2020 0
سوشل میڈیا پر نئی تاریخ رقم ۔۔۔۔۔ارطغرل نے دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے یوٹیوب چینلز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کر دیا




لاہور (ویب ڈیسک) ارطغرل ڈرامے کی اردو ڈبنگ نے پاکستان میں دھوم مچا رکھی ہے، یکم رمضان المبارک سے پی ٹی وی پر شروع ہونے والا یہ ڈرامہ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے شوز میں شامل ہوگیا۔ٹیوب فلٹر نامی ویب سائٹ کی جانب سے 11 سے 17 مئی تک جاری رہنے والے ہفتے کے دوران سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

یوٹیوب چینلز کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ” ٹی آر ٹی ارطغرل بائی پی ٹی وی ” نامی پاکستانی یوٹیوب چینل کو بھی شامل کیا گیا ہے، یہ وہ چینل ہے جس پر ارطغرل ڈرامہ نشر کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان کا کوئی یوٹیوب چینل دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے 50 چینلز میں شامل ہوا ہو۔ایک ہفتے کے دوران سب سے زیادہ دیکھے جانے والے 50 چینلز کی فہرست میں سے 15 کا تعلق امریکہ اور 12 کا انڈیا سے ہے۔ارجنٹائن ، کینیڈا، فلپائن، روس اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 2،2 یوٹیوب چینلز اس فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔پاکستان، متحدہ عرب امارات، برازیل، مصر، اردن، جنوبی کوریا، نیدرلینڈز، پوٹرو ریکو، رومانیہ، تھائی لینڈ، ترکی اور وینز ویلا کا ایک ایک چینل اس فہرست میں شامل ہے۔ٹاپ 50 چینلز کی فہرست میں ” ٹی آرٹی ارطغرل بائی پی ٹی وی ” یوٹیوب چینل 49 ویں نمبر پر ہے۔ اس چینل کو 11 سے 17 مئی تک کے ہفتے کے دوران 11 کروڑ 71 لاکھ 51 ہزار 391 بار دیکھا گیا ۔ اسی ہفتے کے دوران چینل نے 14 لاکھ 40 ہزار نئے سبسکرائبرز بھی حاصل کیے۔21 مئی 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق ” ٹی آر ٹی ارطغرل بائی پی ٹی وی ” یوٹیوب چینل کو 35 لاکھ 20 ہزار سے زائد لوگ سبسکرائب کرچکے ہیں۔ یہ چینل 18 اپریل کو بنایا گیا تھا اور اب تک اس کو مجموعی طور پر 26 کروڑ 70 لاکھ 83 ہزار 819 بار دیکھا جاچکا ہے۔

Sharing is caring!

’’سی پیک ناقابلِ برداشت‘‘ پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی امریکی مذموم کوشش۔۔۔ چینی سفارتخانے نے بڑا اعلان کر دیا

May 22, 2020 0
’’سی پیک ناقابلِ برداشت‘‘ پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی امریکی مذموم کوشش۔۔۔ چینی سفارتخانے نے بڑا اعلان کر دیا



بیجنگ (ویب ڈیسک) پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی امریکی مذموم کوشش، چینی سفارتخانے نے بڑا اعلان کردیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین نے ایلس ویلز کے پاک چین تعلقات اور سی پیک سے متعلق بیان کا نوٹس لیتے ہوئے سخت بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان چینی سفارتخانے نے

کہا ہے کہ ایلس ویلز کی تقریر بے بنیاد ہے،پاک چین تعلقات کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی مزموم کوشش کی گئی،پاکستان اور چین کے درمیان 69 سالوں سے بہترین سفارتی تعلقات موجود ہیں،دونوں ملک ایک دوسرے کا احترام اور مدد کرتے ہیں،پاکستان اور چین نے خطے میں امن و استحکام کیلئے مل کر کام کیا ہے، ترجمان چینی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ پاک چین تعلقات مساوی بنیادوں پر استوار ہیں، چین نے کبھی پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی،سی پیک منصوبوں میں 25 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی ہے،2012سے 2019 کے درمیان امریکہ نے پاکستان میں صرف ایک ارب کی سرمایہ کاری کی ترجمان چینی سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں چین اور پاکستان ساتھ ہیں،چین نے 55 ملین امریکی ڈالر کا طبی سامان پاکستان کو مہیا کیا ہے ،ہم نے ہمیشہ پاکستان کو برابری کی سطح پر سمجھا ہے ۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی ایلس ویلز نے پاک چین تعلقات بارے متنازعہ بیانات دیئے جس پر پاکستان اور چین دونوں نے امریکہ کو جواب دیا،روان برس 23 جنوری کو وزارت منصوبہ بندی نے سی پیک پر امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلزکے بیان پر رد عمل میں کہا ہے کہ بی آرآئی کے تحت میگاڈیولپمنٹ پروجیکٹس سےاقتصادی ترقی آئے گی، سی پیک پاکستان کی معاشی اورمعاشرتی ترقی کی جانب اہم قدم ہے، فیزون کےمنصوبوں سےعوام کوریلیف ملا۔

وزارت منصوبہ بندی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیزون سے ملک کوسماجی واقتصادی فوائد ملناشروع ہوچکے ہیں، سی پیک ملکی ترقی کی رفتاربڑھانے میں معاون ثابت ہوگا،پاکستان خودمختارملک ہے،اقتصادی شراکت داری کے انتخاب کاحق رکھتاہے،منصوبوں میں شفافیت کوترجیح دی جاتی ہے۔ قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ سی پیک کے حوالے سے ہمیں اپنے مفاد کو دیکھنا ہے، جو چیز ہمارے مفاد میں ہے ہم اس پر عمل پیرا رہیں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین گہرے دوست ہیں، سی پیک منصبوں کی جلد تکمیل حکومت پاکستان کی ترجیح ہے، 7 ہزارمیگاواٹ کے 4.12 ارب ڈالرز کے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے، سی پیک کے 9 ارب ڈالرز کے قرضے ہیں جو کل قرضوں کا دس فیصد بھی نہیں، سی پیک قرضوں کی خودمختاری کی ضمانت سے متعلق باتیں درست نہیں، پاکستان ایف اے ٹی ایف سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کے بیان پر چینی سفارتخانے نے درعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک اور پاک چین تعلقات میں امریکی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں۔ چینی سفارتخانے کے ترجمان کی جانب سے جاری مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے منفی پراپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ امریکی اقدامات عالمی معیشت کے لیے نہیں، اپنے مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔امریکا دنیا بھر میں پابندی کی چھڑی لے کر گھومتا ہے اور ممالک کو بلیک لسٹ کرتا ہے۔ امریکا حقائق سے آنکھیں چرا کر سی پیک پر اپنی بنائی ہوئی کہانی پر قائم ہے۔ چینی ترجمان نے کہا کہ سی پیک کام کر رہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب پاکستانی عوام نے دینا ہے نہ کہ امریکا نے۔ امریکا خود ساز قرضہ جات کی کہانی میں مبالغہ آرائی کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستانی عوام کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں 32 منصوبے قبل ازوقت مکمل ہوئے۔ ان منصوبوں سے 75 ہزار افراد کو روزگار کے مواقع پیدا ہوئے

Sharing is caring!

.pop